کاروار 23 / اپریل (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا میں روز بروز گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے چلتے موٹر بائک سواروں نے پولیس والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس موسم میں ہیلمیٹ لازمی طور پر پہننے کے قانون سے 2 مہینے کے لئے عارضی چھوٹ دی جائے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے صبح 8 بجے سے ہی پارہ چڑھنے لگتا ہے اور مسلسل 35 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور اس حد سے زیادہ بڑھی ہوئی گرمی میں ویسے ہی بائکس پر باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ایسے میں پولیس کی طرف سے شہروں کی اہم سڑکوں کے کنارے اور سرکلوں پر جانچ اور معائنہ میں بغیر ہیلمیٹ والوں پر جرمانہ لگانے کا سلسلہ بڑی مصیبت بن گیا ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بائک سواروں کی حفاظت کے پیش نظر لازمی طور پر ہیلمیٹ پہننے کا قانون بالکل ضروری ہے مگر اس وقت چلچلاتی دھوپ میں بدن سے ٹپکتے پسینے کے ساتھ ہیلمیٹ پہننا کسی عذاب سے کم نہیں ہے ۔ اس لئے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ہائی وے پر چونکہ موٹر گاڑیاں بہت ہی تیز رفتاری سے چلتی ہیں اس لئے وہاں پر ہیلمیٹ کا لزوم باقی رکھتے ہوئے شہر کے اندرونی علاقوں میں ہیلمیٹ کی پابندی نہ کرنے کی چھوٹ دی جائے ۔
اس ضمن میں پولیس افسران سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو موٹر وھیکل ایکٹ کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران نے ہیلمیٹ پہننے کے قانون پر لازمی عمل در آمد کی ہدایت دی ہے ۔ اس لئے کسی مخصوص علاقے میں اگر اس قانون میں کوئی رعایت دینی ہے تو اس کا فیصلہ بھی سرکاری طور پر ہونا چاہیے ۔ علاقائی سطح پر پولیس افسران اس قسم کی رعایت دینے کا فیصلہ نہیں کر سکتے ۔